Darpan Nibraas
Darpan Nibraas
May 21, 2025 at 04:02 PM
آنکھ سے آنکھ ملاؤ تو کوئی بات بنے رخ سے زلفوں کو ہٹاؤ تو کوئی بات بنے تیر چھپ چھپ کے چلانے سے بھلا کیا حاصل بے ججھک سامنے آؤ تو کوئی بات بنے سرمہ آنکھوں میں لگانے سے نہیں ہوتا سنگھار مہندی ہاتھوں پہ لگاؤ تو کوئی بات بنے جام بھر بھر کے تو ہم روز پیا کرتے ہیں آج نظروں سے پلاؤ تو کوئی بات بنے یہ جوانی یہ حسیں رات ہے چُپ چُپ کب سے پیار کا گیت سناؤ تو کوئی بات بنے جس کی آنکھوں میں چھلکتے ہوئے پیمانے تھے پھر اسے ڈھونڈ کے لاؤ تو کوئی بات بنے اے فنا جھوم کے آنے لگے کالے بادل بزم میخانہ سجاؤ تو کوئی بات بنے ٖفنا بلند شہری
👍 😎 🤌 🤍 5

Comments