MOHD YAHYA KHAN NADVI
June 8, 2025 at 02:50 AM
*ادائے ابراہیمی کی سال گرہ*:
ہم ملت ابراہیمی ہیں، ابراہیمی دین تین نہیں ایک ہے: اسلام اور صرف اسلام، اقوامِ عالم "اضحیہ سال گرہ" دیکھ لیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وارث آج قربانی میں سرشار ہیں، ان کی زندگی کے سب سے بڑے جذبے کو ہم نے گود لیا ہے، ان کی قربانی کو امت نے عید بنا لیا، اولاد ابراہیم کے سرتاج صلی اللہ علیہ وسلم کا بیانیہ صاف تھا، جب انھوں نے ایک تیز خطاب میں فرمایا کہ جو وسعت کے باوجود قربانی نہ کرے اس کا راستہ جدا ہے، وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے اور امت کے ناداروں کو علامتی طور پر شاملِ جشن کیا، ایک اضافی قربانی کرکے رب سے فرمایا: یہ امت کے غریبوں کی قربانی ہے.
یعنی اے رب! سنت ابراہیمی کی یادگار میں میری پوری امت شامل ہے، کوئی لاتعلق نہیں، تہی دست کا میں دست گیر ہوں، اس کو قربانی کا پاس میں نے جاری کیا ہے، وہ خالی ہاتھ نہیں ہے، اس کی پیشانی پر محمدی قربانی جگمگا رہی ہے، اسے بھی "جشن اضحیہ" میں شامل درج کیا جائے، معلوم ہے کہ آج آپ کی شان قربانی میں ہے، دوسرا ہر عمل پس منظر میں چلا گیا ہے، آج کی تقریب کے دلہا حضرت ابراہیم ہیں اور آپ ہمارے خراج تعلق کی حدیں دیکھنا پسند کرتے ہیں، سو ہم تیار ہیں، کرۂ ارض آپ کے خلیل کو "سرخ سلام" پیش کرتا ہے، ہر سو اراقتِ دم ہے اور صرف اراقتِ دم.
سلام ہے آپ کے حبیب پر جن کے صدقے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت زندہ وتابندہ ہوئی، جن کے دستِ اعجاز نے خلیلی آئینے کے گرد وغبار کو صاف کیا، اس کی چمک بحال کی، ان کے تمام سلسلوں کو از سر نو جاری کیا اور ان کے دوام وتسلسل کو یقینی بنانے کے لیے امت سے عہد وپیمان لیے، بے شک آج کی رونق حضرت خلیل سے منسوب ہے؛ لیکن اس رونق کو خزاں سے بہار تک لانے والے حضرت حبیب ہیں، تسلیم کہ اس محفل جذبات کا سرِ رشتہ حضرت ابراہیم ہیں؛ مگر اس کا کردارِ احیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بلائیں لے رہا ہے، آپ ہی کے دم گرم نے ماضی کی یاد کو عمل اور شعور میں تبدیل کیا.
اے چشمِ ارض! خیمۂ ابراہیم اور صفِ محمد کا حسین سنگم اور دلربا اشتراک دیکھ کہ آج یومِ قربانی ہے اور آج ہی عید الاضحٰی ہے، سب کو عید مبارک، قربانی مبارک، جشنِ ابراہیمی کی شرکت مبارک.
محمد فہیم الدین بجنوری
عید الاضحٰی 1446ھ