الفلاح اسلامک چینل(1)
June 3, 2025 at 12:11 PM
*{قربانی کا بیان}* *101 فقہی مسائل* {کل 12 قسطیں ہیں ! *قسط نمبر 01* مسئلہ نمبر1) قرآن و سنت میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے ماہ ذی الحجہ میں دس خصوصی احکام ہیں، وہ دس احکام یہ ہے ! 1) حج بیت اللہ : جو صرف اس مہینے میں ادا کیا جاتا ہے ! 2) قربانی : صاحب استطاعت مسلمانوں پر واجب ہے اور اسے صرف اس مہینے کے تین دنوں میں ادا کیا جاسکتا ہے ! 3) عید الاضحیٰ : قربانی ، نماز ، خوشی اور اللہ پاک کی طرف سے اپنے بندوں کی دعوت کا دن اسی مہینے میں ہے ! 4) تکبیرات تشریق : اس مہینے کے پانچ دنوں میں نماز کے بعد تکبیر واجب ہے ! 5) عشرہ ذی الحجہ کے روزے : یعنی اس مہینے کے پہلے نو دنوں میں روزے رکھنے کا خصوصی اجر ہے ! *الفلاح واٹس ایپ چینل لینک* *`https://whatsapp.com/channel/0029VaB6oVjAzNbyq3E8150n`* 6) عرفہ کا روزہ : اس مہینے کی نو تاریخ جو یوم عرفہ کہلاتی ہے، اس کے روزے کا خاص اجر ہے ! 7) چار ایام میں روزہ کی حرمت : یعنی اللہ تعالی نے پورے سال میں جن پانچ دنوں کا روزہ حرام قرار دیا ہے ان میں سے چار دن اس مہینے میں ہے ! 8) لیالی عشر کی فضیلت : یعنی اس مہینے کی پہلی دس راتوں کی خاص فضیلت ہے ! 9) بال اور ناخن نہ کٹوانا : یعنی جن افراد نے قربانی کرنی ہو ان کے لیے مستحب ہے کہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی ذبح ہونے تک اپنے بال اور ناخن نہ تراشیں ! 10) معاصی یعنی گناہوں سے بچنے کا خاص اہتمام : چونکہ یہ مہینہ حرمت والا مہینہ ہے اس لیے اس میں ظلم اور گناہوں سے بچنے کا خاص اہتمام کیا جائے ! مسئلہ نمبر2) جس شخص پر زکوة فرض ہو یا جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت ہو یا اتنی قیمت کا مال تجارت ہو تو اس پر قربانی اور صدقئہ فطر واجب ہوجاتا ہے، شریعت اسلامیہ میں قربانی کی بڑی فضیلت ہے اور قربانی واجب ہونے کے باوجود نہ کرنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ! (الترغیب و الترہیب جلد 2 صفحہ 103) مسئلہ نمبر3) اگر کسی شخص کے پاس ضرورت سے زائد کپڑے، موبائل فون، گھریلو برتن، ٹیپ ریکارڈ، ٹیلی ویژن اور وی سیی آر وغییرہ جن کی مالیت نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی) کے برابر ہو تو اس پر بھی قربانی واجب ہوگی، کیوں کہ وجوب قربانی کے لیے نصاب کا نامی ہونا اور اس پر سال گزرنا شرط نہیں ہے ! (بدائع الصنائع جلد 4 صفحہ 196 ، الدرالمختارمع الشامیة جلد 9 صفحہ 379) مسئلہ نمبر4) اگر کاشتکار کے پاس ہل چلانے اور دوسری ضرورت کے علاوہ اتنے جانور موجود ہے کہ ان کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہے تو اس کی وجہ سے قربانی واجب ہوگی، اور اگر ایسا نہیں اور دوسرا کوئ مال نہیں تو قربانی واجب نہیں ہوگی ! (ہندیہ جلد 5 صفحہ 293) مسئلہ نمبر5) بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ گھر میں پالے ہوئے جانور کے بارے میں اگر کسی شخص نے قربانی کی نیت کرلی، تو اس نیت سے اس جانور کی قربانی کرنا لازم ہو جاتا ہے اور ایسے جانور کو بدلنا یا فروخت کرنا بھی جائز نہیں ہے، جبکہ یہ خیال صحیح نہیں ہے، جانور کے پہلے سے ملکیت میں ہوتے ہوئے اس میں قربانی کی نیت کر لینے سے اس کی قربانی لازم نہیں ہوتی ہے، اس جانور کے علاوہ دوسرے جانور کی بھی قربانی کر سکتا ہے ! (بدائع الصنائع جلد 4 صفحہ 199) مسئلہ نمبر6) بعض لوگ قربانی کے سلسلے میں یہ غلطی کرتے ہیں کہ کسی سال اپنی بیوی کے نام سے، تو کسی سال خود اپنے نام سے، تو کسی سال اپنے گھر کے کسی بڑے فرد کے نام سے قربانی کرتے ہیں، یعنی ہر سال گھر کے کسی ایک ہی فرد کے نام سے قربانی کرتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ اس طرح کرنے سے گھر کے تمام افراد کے ذمہ سے قربانی کا وجوب ساقط ہوجاتا ہے، ان کا یہ خیال غلط ہے، صحیح بات یہ ہے کہ گھر کا جو جو فرد صاحب نصاب ہے، اس پر قربانی واجب ہے، محض کسی ایک فرد کے نام سے قربانی کر دینے سے تمام اہل خانہ کا واجب ادا نہ ہوگا ! (بدائع الصنائع جلد 6 صفحہ 283) مسئلہ نمبر7) جس آدمی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو اس کے لیے مستحب ہے کہ ماہ ذی الحجہ کے آغاز سے جب تک قربانی کا جانور ذبح نہ کرے، اپنے بال اور ناخن صاف نہ کرے، لیکن یہ عمل مستحب ہے اور مستحب کا حکم یہ ہے کہ کرنے والا مستحق ثواب اور نہ کرنے کی صورت میں کوئی گناہ لازم نہیں آتا اور نہ قربانی کی صحت میں کوئی خلل واقع ہوتا ہے ! (صحیح مسلم جلد 2 صفحہ 160) مسئلہ نمبر8) اگر کوئی شخص قربانی کے لیے جانور خریدے اور قربانی سے پہلے جانور مر جائے، تو اگر جانور خریدنے والا مالدار ہے، تو اس پر دوسرا جانور خرید کر اس کی قربانی کرنا لازم ہوگا اور اگر وہ غریب ہے تو اس کے ذمہ دوسرا جانور خرید کر قربانی کرنا لازم نہیں ہوگا ! (المبسوط للسرخسی جلد 13 صفحہ 21) مسئلہ نمبر9) اگر کوئی شخص مالدار (صاحب نصاب) ہو اور اگر اس نے ابھی تک قربانی نہیں کی تھی کہ ایام قربانی میں ہی اس کا انتقال ہوگیا، تو اس کے ذمہ سے قربانی ساقط ہوگئی، کیوں کہ وجوب قربانی، ادائے قربانی کے وقت ثابت ہوتا ہے، یا پھر آخر وقت میں، اب جب اس شخص نے قربانی نہیں کی اور نہ آخر وقت تک زندہ رہا، تو اس پر قربانی واجب ہی نہیں ہوئی، جیسے کوئی شخص نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد، اس کو ادا کرنے سے پہلے ہی مر جائے، تو اس پر اس وقت کی نماز واجب نہیں ہوتی ! (ہندیہ جلد 5 صفحہ 293) مسئلہ نمبر10) اگر بیوی مالدار صاحب نصاب ہے، یا اس کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنی چیزیں ہیں کہ ان کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہے، تو اس پر قربانی واجب ہے اور اس پر لازم ہے کہ اپنی طرف سے ایک حصہ قربانی کرے، رہا شوہر ! تو اس پر بیوی کی طرف سے قربانی کرنا ضروری نہیں، لیکن اگر وہ بیوی کی اجازت سے اس کے لیے بھی ایک حصہ قربانی کرے گا تو بیوی کی طرف سے قربانی ادا ہو جائے گی ! (مجمع الانہر جلد 4 صفحہ 166 ، البحر الرائق جلد 8 صفحہ 317) مسئلہ نمبر11) بسا اوقات ایک بڑے جانور میں شرکاء میں سے کچھ لوگ واجب قربانی کی نیت سے اور کچھ لوگ نفلی قربانی کی نیت سے شریک ہوتے ہیں، اس طرح ان کا شریک ہوکر قربانی کرنا درست ہے کیوں کہ شرط عبادت و قربت کی نیت ہے اور وہ سب کی طرف سے پائ گئی ! (الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید جلد 5 صفحہ 214) مسئلہ نمبر12) امیر باپ پر نابالغ اولاد کی طرف سے قربانی کرنا واجب نہیں، بلکہ مستحب ہے، اگر قربانی کرے گا تو ثواب ملے گا، نہیں کرے گا تو گناہ نہیں ہوگا ! (مجمع الانہر جلد 4 صفحہ 167) مسئلہ نمبر13) دوسرے کی طرف سے واجب قربانی کی اجازت لینا ضروری ہے، ورنہ دوسرے کی واجب قربانی ادا نہ ہوگی، اگر کسی علاقے میں اپنے متعلقین کی طرف سے قربانی کرنے کی عادت اور رواج ہو تو اپنے متعلقین کی طرف سے ان کی اجازت کے بغیر واجب قربانی درست ہو جائے گی ! (بدائع الصنائع جلد 4 صفحہ 211 ، البحر الرائق جلد 8 صفحہ 326) مسئلہ نمبر14) بعض لوگ قیمت ادھار رکھ کر جانور خرید لیتے ہیں اور اس کی قربانی کرتے ہیں، ان کا اس طرح سے قربانی کرنا جائز و درست ہے، کیوں کہ قیمت ادھار رکھ کر جانور لینے سے ملکیت ثابت ہوجاتی ہے ! (فتح القدیر لابن الہمام جلد 6 صفحہ 242) مسئلہ نمبر15) جان بوجھ کر سود خور کے ساتھ قربانی میں شرکت نہیں کرنی چاہئیے، کیوں کہ حرام رقم سے شرکت کرنے کی صورت میں کسی کی بھی قربانی درست نہیں ہوگی، ہاں اگر ایسا آدمی کسی سے حلال رقم لے کر قربانی میں حصہ لے تو اس کو اجتماعی قربانی میں شامل کرنا جائز ہوگا ! (رد المحتار جلد 9 صفحہ 395) #قربانی_کا_بیان_101_فقہی_مسائل ===> جاری ہے

Comments