الفلاح اسلامک چینل(1)
June 3, 2025 at 12:13 PM
۔ *قربانی کا بیان* {101 فقہی مسائل} {کل 7 قسطیں ہیں ! *قسط نمبر 2* مسئلہ نمبر16) گزشتہ سال کی قربانی باقی ہے تو اس کی قیمت صدقہ کر دینا واجب ہے، اگر کسی نے بڑے جانور میں دو حصے لیے، اس نیت سے کہ ایک حصہ سال رواں کی قربانی کا حصہ ہے اور ایک حصہ گذشتہ سال کی قربانی ہے، تو اس صورت میں تمام شریکوں کی قربانی ادا ہو جائے گی، البتہ اس آدمی کے سال رواں کی قربانی ادا ہو جائے گی اور گذشتہ سال کی قضا کی نیت سے جو قربانی کی وہ ادا نہیں ہوگی، نفل ہوجائے گی اور گذشتہ قربانی کے عوض ایک بکرے کی قیمت صدقہ کرنا ضروری ہوگا ! (ہندیہ جلد 5 صفحہ 294) مسئلہ نمبر17) اگر کسی علاقے میں ایام قربانی میں فساد ہو جائے جس بنا پر نماز عید ادا کرنا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں طلوع فجر کے بعد ہی سے قربانی کر سکتے ہیں ! (الدر مع الرد جلد 9 صفحہ 387) مسئلہ نمبر18) کسی شخص پر قربانی واجب تھی، لیکن قربانی کے تین دن گزر گئے اور اس نے قربانی نہیں کی، تو ایک بھیڑ یا بکری خیرات کر دے اور اگر قربانی کا جانور خرید لیا، اور کسی وجہ سے قربانی نہ کر سکا، تو زندہ جانور صدقہ کر دے اور اس کا گوشت خود نہ کھائے، کیوں کہ اب واجب، قربانی سے تصدق کی طرف منتقل ہوچکا ہے، البتہ قربانی کے دنوں میں جانور کی قیمت صدقہ کر دینے سے واجب قربانی ادا نہیں ہوگی اور وہ آدمی گناہ گار ہوگا کیوں کہ قربانی ایک مستقل عبادت ہے ! (المحیط البرہانی جلد 6 صفحہ 477) *الفلاح واٹس ایپ چینل لینک* *`https://whatsapp.com/channel/0029VaB6oVjAzNbyq3E8150n`* مسئلہ نمبر19) بہتر تو یہی ہے کہ آدمی اپنی قربانی کا جانور خود پسند کرے، اس کی خدمت گزاری کر کے اس سے محبت کا تعلق پیدا کرے، اپنے ہاتھ سے ذبح کرے، ذبح نہ کر سکے تو اس مبارک وقت پر حاضر رہے، عید کے دن اپنی قربانی میں سے کھائے، پڑوس اور عزیز و اقارب، نیز غریبوں اور رشتہ داروں کو کھلائے، اور یہ سب اسی وقت ہوسکتا ہے جب قربانی اپنے وطن میں کی جائے لیکن اگر کوئی شخص کسی عذر شرعی یا مصلحت شرعیہ کی بنا پر اپنے وطن میں قربانی نہ کرتے ہوئے کسی دوسرے ملک میں قربانی کرے تو بدون حرج قربانی درست ہوگی ! (بدائع جلد 4 صفحہ 198) 🗒🖋نوٹ : البتہ اس سلسلہ میں دو اصولی باتیں یاد رکھنی چاہیے ! پہلی بات) قربانی کی ادائیگی واجب ہونے کے بعد ہی قربانی درست ہوگی، اور اس کی ادائیگی 10 ذی الحجہ کی صبح صادق طلوع ہونے کے بعد واجب ہوتی ہے ! دوسری بات) جہاں قربانی کی جارہی ہے وہاں کے وقت کا اعتبار ہوتا ہے، لہٰذا قربانی کرانے والے پر اپنے ملک میں قربانی کی ادائیگی واجب ہونے کے بعد اس کی طرف سے دوسرے ملک میں قربانی کی ادائیگی درست ہوگی، اور ادائے قربانی کے صحیح ہونے میں اس دوسرے ملک کے وقت کا اعتبار ہوگا، یعنی 10 ذی الحجہ سے 12 ذی الحجہ کے غروب تک قربانی کرنا جائز ہوگا ! ( بدائع جلد 4 صفحہ 198) مسئلہ نمبر20) 10 ذی الحجہ سے 12 ذی الحجہ تک جس طرح دن میں قربانی کے جانور کو ذبح کرنا جائز ہے، اسی طرح درمیان کی دو راتوں میں بھی قربانی کے جانور کو ذبح کرنا جائز ہے، مگر مکروہ ہے، اور اس کراہت کی علت رات کی تاریکی میں مطلوبہ رگوں میں سے کسی رگ کے نہ کٹنے یا مقدار ذبح سے زائد کٹ جانے کا اندیشہ ہے، لیکن اگر رات کو ایسی معقول روشنی کا انتظام ہو کہ اس طرح کا شبہ و اندیشہ نہ رہے، تو یہ کراہت باقی نہیں رہے گی، اور رات میں بھی بلا کراہت قربانی کے جانور کو ذبح کرنا جائز ہوگا ! (المبسوط جلد 12 صفحہ 34) مسئلہ نمبر21) اگر کسی شہر میں 10 ذی الحجہ کو نماز عید کسی وجہ سے نہیں پڑھی گئی، تو اس روز زوال کے بعد جانور ذبح کرنا جائز ہوگا ! (فتاوی ہندیہ جلد 5 صفحہ 295) مسئلہ نمبر22) بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر قربانی کرنے والے نے عید کی نماز نہیں پڑھی اور مسجد یا عیدگاہ میں نماز ہوچکی ہے، تو اس صورت میں عید کی نماز پڑھے بغیر قربانی کرنا جائز نہیں ہوگا، جبکہ نماز عید پڑھے بغیر قربانی کرنا درست ہے، بشرطیکہ مسجد یا عید گاہ میں نماز عید ہوچکی ہو، کیوں کہ خود قربانی کرنے والے کا عید کی نماز سے فارغ ہونا شرط نہیں ہے، بلکہ مسجد یا عیدگاہ میں عید کی نماز ہو جانا کافی ہے ! (ردالمختار جلد 9 صفحہ 385) مسئلہ نمبر23) موجودہ دور میں اجتماعی قربانی کا رواج عام ہو رہا ہے اور بہت سارے ادارے یہ خدمت انجام دے رہے ہیں، شرعاً یہ جائز ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے، لیکن اجتماعی قربانی میں مشترکہ جانور کو ذبح کرنے سے پہلے جن سات شریکوں کی طرف سے یہ قربانی ہے، ان کی تعیین اور ذبح کرتے وقت ان کی طرف سے قربانی کی نیت کرنا ضروری ہے ورنہ تعیین نہ ہونے کی وجہ سے قربانی صحیح نہیں ہوگی ! (الدر مع الرد جلد 9 صفحہ 378) مسئلہ نمبر24) اگر اجتماعی قربانی میں قربانی کرنے کے بعد کچھ رقم بچ جائے، تو اجتماعی قربانی کا انتظام کرنے والے اداروں پر بچی ہوئی زائد رقم کا واپس کرنا لازم ہوگا، البتہ اگر قربانی کا انتظام کرنے والے ادارے اجرت کے طور پر کچھ لینا چاہیں تو ابتداء ہی سے متعین کر کے لے سکتے ہیں، بعد میں نہیں، یا پھر جن لوگوں کی طرف سے قربانی کی گئی ہے، ان کی اجازت سے ان کے بیان کردہ مصرف میں خرچ کرنے کے مجاز ہوں گے ! (مسند احمد ابن حنبل جلد 10 صفحہ 400 ، رقم الحدیث 20980) مسئلہ نمبر25) بڑے جانور میں سات افراد کا شامل ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ اگر بڑے جانور میں سات افراد سے کم، مثلاً کسی بڑے جانور میں چھ یا پانچ یا اس سے بھی کم شریک ہوں، تب بھی جائز و درست ہے، یہاں تک کہ اگر تنہا ہی ایک آدمی پورے بڑے جانور کی قربانی اپنی طرف سے کرے تو بھی جائز ہیں ! (مجمع الانہر جلد 4 صفحہ 168) مسئلہ نمبر26) بروز عید قرباں، بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب تک قربانی نہ ہو روزے سے رہے، یعنی نہ کچھ کھائے اور نہ کچھ پئے، شریعت اسلامیہ میں اس قول کی کوئی اصل حقیقت نہیں ہے، البتہ جو شخص قربانی کرے اس کے لیے یہ مستحب ہے کہ عید الاضحی کی نماز سے فارغ ہونے تک کچھ نہ کھائے، تاکہ اس دن کا اول طعام اس کی قربانی کا گوشت ہو ! (اعلاء السنن جلد 17 صفحہ 250) مسئلہ نمبر27) قربانی کے جانور کے کسی جزء مثلاً کھال یا گوشت وغیرہ سے قصاب کی اجرت دینا یا قیمت میں وضع کرنا جائز نہیں، اگر کسی نے ایسا کیا تو قربانی ہو جائے گی لیکن کھال کی قیمت یا جتنا گوشت دیا ہے اس کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہوگا، قصاب کی اجرت الگ رقم سے دی جائے، قربانی کے جانور کے کسی جزء سے نہیں ! (بخاری شریف جلد 2 صفحہ 232) مسئلہ نمبر28) طالب علم کے لئے نفلی قربانی کی بجائے دینی کتابیں خریدنا بہتر ہے ! (صحیح مسلم شریف جلد 2 صفحہ 41) مسئلہ نمبر29) قربانی کی کھال فروخت کرنے کے بعد جو رقم قیمت کے طور پر ملتی ہے، وہ صدقہ کر دینا واجب ہے اور صدقہ کی حقیقت یہ ہے کہ جس کو دیا جائے وہ مالک بن جائے، چونکہ مسجد میں تملیک نہیں پائی جاتی، اس لیے قربانی کی کھال کی رقم مسجد کی تعمیر اور امام و مؤذن اور خادم وغیرہ کی تنخواہ، اسی طرح قبرستان یا مسجد کی چہار دیواری بنانے میں صرف کرنا جائز نہیں ! (نتائج الافکار تکملہ فتح القدیر جلد 9 صفحہ 57 ، المغنی و الشرح الکبیر جلد 11 صفحہ 112) مسئلہ نمبر30) اگر کوئی شخص وکیل بن کر لوگوں کی قربانی کرنے کی ذمہ داری لیتا ہے، تو ہر شخص کا حساب الگ رکھنا ضروری ہوگا، اگر کسی کی رقم بچ جائے تو بقیہ رقم واپس کرنا لازم ہوگا لیکن اگر مؤکل بچی ہوئی رقم کو کسی اور مصرف میں خرچ کرنے کی اجازت دے تو اس کا خرچ کرنا جائز ہوگا ! #قربانی_کا_بیان_101_فقہی_مسائل ===> جاری ہے *الفلاح واٹس ایپ چینل لینک* *`https://whatsapp.com/channel/0029VaB6oVjAzNbyq3E8150n`*

Comments