الفلاح اسلامک چینل(1)
June 3, 2025 at 12:13 PM
*{قربانی کا بیان}* {101 فقہی مسائل} {کل 7 قسطیں ہیں ! *قسط نمبر 3* مسئلہ نمبر31) اگر کسی نے شادی کی دعوت نمٹانے کی نیت سے قربانی کی، ثواب اور واجب ادا کرنے کی نیت سے نہیں کی، تو اس صورت میں قربانی صحیح نہیں ہوگی، دوبارہ ایک حصہ کرنا لازم ہوگا ! (بدائع الصنائع جلد 4 صفحہ 208) مسئلہ نمبر32) میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے اور میت کو ثواب ملیگا، حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک دنبہ اپنی طرف سے اور ایک دنبہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے قربانی کیا کرتے تھے ! (اعلاء السنن جلد 17 صفحہ 296) مسئلہ نمبر33) بعض لوگ اپنی واجب قربانی کی ادائیگی کے ساتھ اپنے مرحومین کو ثواب پہونچانے کے لیے بھی قربانی کرتے ہیں، ان کا اس طرح اپنے مرحومین کو ثواب پہونچانے کی غرض سے قربانی کرنا جائز و درست ہے ! (بدائع الصنائع جلد 6 صفحہ 307) *الفلاح واٹس ایپ چینل لینک* *`https://whatsapp.com/channel/0029VaB6oVjAzNbyq3E8150n`* مسئلہ نمبر34) اگر سات افراد شریک ہوکر ایک بڑا جانور قربانی کے لیے خریدیں اور قربانی کرنے سے پہلے ان میں سے کوئی شخص مر گیا، مگر اس کے بالغ ورثاء ان شرکاء کو اجازت دیدیں کہ آپ لوگ میت اور اپنی طرف سے قربانی کر لیں، تو ان شرکاء کا قربانی کرنا جائز ہوگا اور سب کی قربانی ادا ہوجائے گی، اور اگر میت کے وارثوں کی اجازت کے بغیر قربانی کریں تو درست نہیں ہوگی اور کسی بھی شریک کی قربانی ادا نہیں ہوگی ! (الدر مع الرد جلد 9 صفحہ 395) مسئلہ نمبر35) قربانی کے جانور میں اگر کوئی ایسا شخص شریک تھا جس پر قربانی واجب تھی اور وہ پھر ذبح سے پہلے شرکت سے علیحدہ ہوگیا اور دوسرا آدمی اس کی جگہ شریک ہوگیا، تو قربانی ہو جائے گی اور اگر قربانی کے جانور میں کوئی ایسا شخص شریک تھا جس پر قربانی واجب نہ تھی، وہ اگر ذبح کرنے سے پہلے علیحدہ ہو جائے تو اس پر قربانی واجب رہ جائے گی اور اس جانور کے دوسرے شرکاء کی قربانی بھی درست نہ ہوگی ! (قربانی کے بیان کا انسائکلوپیڈیا صفحہ 93) مسئلہ نمبر36) اگر قصائی مسلمان ہو اگرچہ وہ فاسق ہو تو بھی اس کا ذبح کیا ہوا جانور حلال ہے، اس کا گوشت کھانا جائز ہے ! (مجمع الانہر جلد 4 صفحہ 153) مسئلہ نمبر37) جانور ذبح کرنے کے بعد ٹھنڈا ہونے سے پہلے اس کا سر الگ کرنا یا کھال اتارنا مکروہ ہے، مگر اس ذبح کئے ہوئے جانور کا گوشت حلال ہے اور اس کا کھانا جائز ہے ! (ابو داؤد شریف صفحہ 389) مسئلہ نمبر38) جانور کو بے ہوش کر کے ذبح کرنا یعنی ذبح سے پہلے پستول سے دماغ میں نشانہ لگا کر گولی مارنا پھر ذبح کرنا، یہ طریقہ سنت اور اسلامی تعلیم کے خلاف ہے، اس میں جانور حرام ہونے کا ظن غالب ہے، نیز یہ کہ اگر اس ضرب و چوٹ کی وجہ سے جانور کی ہلاکت یقینی ہو جائے، تو پھر اس کے گلے پر چھری پھیرنا بیکار ہوگا اور جانور حرام ہوگا ! (السنن الکبری للبیہقی، رقم الحدیث 19123) مسئلہ نمبر39) بعض مقامات پر قربانی کے جانور کو ذبح کرنے سے پہلے بجلی کا شاک لگایا جاتا ہے، اگر یہ شاک اتنا تیز ہے کہ اس سے جانور کا خون بڑی مقدار میں خشک ہوجاتا ہے تو یہ طریقہ سنت متواترہ کے خلاف ہونے کی وجہ سے مکروہ تحریمی ہے، شریعت اسلامیہ میں جانور کو اس طرح اذیت دینے کی قطعی اجازت نہیں ہے، تاہم اگر جانور میں زندگی باقی تھی اور ذبح کرنے پر جانور کا خون جوش کے ساتھ نکلا تو ذبیحہ حلال ہے اور اس کا گوشت بھی حلال ہے، لیکن اگر بجلی کا شاک ہلکا اور معمولی ہو جس سے جانور کو تکلیف نہ پہنچتی ہو اور اس کا مقصود یہ ہو کہ جانور کو ذبح کی تکلیف کم سے کم پہنچے اور قوت مدافعت میں کمی آجائے تو اس مصلحت کی وجہ سے اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے ! (ہندیہ جلد 5 صفحہ 276) مسئلہ نمبر40) بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ بحالت جنابت قربانی کے جانور کو ذبح کرنا صحیح نہیں ہے، جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کے لئے پاک ہونا شرط نہیں ہے، بحالت جنابت قربانی کرنے سے بھی قربانی درست ہو جائیگی، البتہ پاکی کی حالت میں ذبح کرنا اولی و بہتر ہے ! (الدر المنتقی) مسئلہ نمبر41) بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ عورت کا اپنی قربانی کا جانور خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا درست نہیں ہے، جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ عورت اگر ذبح کرنے پر قادر ہو تو وہ اپنے قربانی کے جانور کو خود ذبح کر سکتی ہے اور ذبیحہ بھی درست ہے ! (صحیح البخاری جلد 2 صفحہ 827) مسئلہ نمبر42) بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ بوقت ذبح بسم اللہ بزبان عربی کہنا ضروری ہے، جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ تسمیہ کسی بھی زبان میں ہو، خواہ ذابح (ذبح کرنے والا) عربی جانتا ہو یا نہ جانتا ہو دونوں صورتوں میں قربانی ہو جائے گی ! (بدائع الصنائع جلد 4 صفحہ 169) مسئلہ نمبر43) بعض لوگ بوقت ذبح بسم اللہ کے ساتھ اللہ اکبر کہنے کو بھی ضروری سمجھتے ہیں، جبکہ ذبح کے وقت صرف بسم اللہ کہنا بھی کافی ہے، البتہ بسم اللہ اللہ اکبر دونوں کہنا سنت ہے ! (البحر الرائق جلد 8 صفحہ 307) مسئلہ نمبر44) جو لوگ چھری چلانے والے کے ساتھ چھری چلانے میں شریک ہوں ان پر بسم اللہ کہنا واجب ہے، ورنہ جانور حرام ہوجائے گا، اس کا گوشت کھانا جائز نہیں ہوگا، البتہ ہاتھ، پیر اور منہ پکڑنے والا شریک نہیں محض معاون ہے، لہذا اس پر بسم اللہ کہنا واجب نہیں ہوگا ! (فتاوی ہندیہ جلد 5 صفحہ 304) مسئلہ نمبر45) بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ایک بڑے جانور میں جتنے افراد شریک ہوں گے، تمام افراد کے لیے جانور کو ذبح کرتے وقت بسم اللہ کہنا ضروری ہے، جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ جانور میں حصہ لینے والے تمام افراد پر بسم اللہ پڑھنا ضروری نہیں ہے، صرف ذبح کرنے والے اور اس کے ساتھ چھری پر یا ذبح کرنے والے کے ہاتھ پر وزن رکھنے والوں پر بسم اللہ پڑھنا ضروری ہے ! (فتاوی ہندیہ جلد 5 صفحہ 304) مسئلہ نمبر46) بعض علاقوں میں یہ رواج ہے کہ قصائی، نائی، دھوبی اور بھنگی وغیرہ قربانی کا گوشت حق الخدمت کہہ کر مانگتے ہیں اور نہ دینے پر ناراض ہوتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا حق الخدمت مار لیا گیا، ان لوگوں کا حق الخدمت کے طور پر قربانی کا گوشت مانگنا اور قربانی کرنے والے شخص کا حق الخدمت کے طور پر دینا، دونوں عمل درست نہیں ہے، لیکن اگر کسی نے اس طرح دے دیا، تو جس قدر دیا اس کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہے اور اگر ان لوگوں کو بغیر حق الخدمت کے قربانی کا گوشت دیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ! (السنن الکبری الرقم 19232) مسئلہ نمبر47) قربانی کا گوشت غیر مسلم کو بھی دینا جائز ہے بشرطیکہ معاوضہ کے طور پر نہ ہو، البتہ غریب مسلمانوں کو دینے کا زیادہ ثواب ہے کیوں کہ یہ مستحب ہے، اس لئے قربانی کا گوشت مسلمانوں کو دینے کی کوشش کرنی چاہئے ! (بخاری شریف ، رقم الحدیث 5569) مسئلہ نمبر48) قربانی کے گوشت کا ایک تہائی حصہ غرباء و مساکین کو صدقہ کرنا مستحب ہے، لیکن اگر کوئی شخص عیال دار اور قبیلہ دار ہے تو اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ تمام گوشت اپنے اہل و عیال کے لئے رہنے دے ! (الفتاوی الہندیہ جلد 5 صفحہ 300) مسئلہ نمبر49) اگر کسی بڑے جانور میں چند لوگ شریک ہوں، تو قربانی کا گوشت اندازہ سے تقسیم کرنا جائز نہیں ہے، وزن کرکے برابر تقسیم کرنا ضروری ہے، اگر کسی حصہ میں گوشت کی کمی بیشی ہوگی تو سود ہو جائیگا اور سود لینا دینا، کھانا اور کھلانا سب حرام ہے، البتہ اگر کسی شریک نے سر اور پائیں لے لیے تو پھر اس کے حصے میں کم گوشت دو دینا جائز ہے ! (ہندیہ جلد 5 صفحہ 306) مسئلہ نمبر50) بعض لوگ قربانی کے گوشت کو ہفتوں اور مہینوں تک سکھا کر کھانے کو غلط سمجھتے ہیں، جبکہ قربانی کے گوشت کو سکھا کر (خواہ کتنے ہی دن ہوں) کھانے میں کوئی قباحت نہیں ہے ! (صحیح مسلم شریف جلد 2 صفحہ 158) #قربانی_کا_بیان_101_فقہی_مسائل ===> جاری ہے *الفلاح واٹس ایپ چینل لینک* *`https://whatsapp.com/channel/0029VaB6oVjAzNbyq3E8150n`*

Comments