الفلاح اسلامک چینل(1)
June 3, 2025 at 12:13 PM
*{قربانی کا بیان}* {101 فقہی مسائل} کل 7 قسطیں ہیں ! *قسط نمبر 4* مسئلہ نمبر51) تین دن سے زیادہ قربانی کے جانور کا گوشت اپنے پاس رکھنا اور اس کے بعد اسے کھاتے رہنا جائز اور درست ہے، ایک خاص مصلحت کی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے صرف ایک سال کے لیے تین دن سے زائد قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرمایا تھا، وہ مصلحت یہ تھی کہ مدینہ منورہ میں بقرہ عید کے موقع پر ایک مرتبہ باہر سے بہت مسلمان آگئے، جو غربت و افلاس کے شکار تھے، اور کھانے پینے کی ان کو تنگی تھی، اس لیے آپ ﷺ نے اعلان فرمایا لا يأكل أحدكم من لحم أضحية فوق ثلاثة أيام *الفلاح واٹس ایپ چینل لینک* *`https://whatsapp.com/channel/0029VaB6oVjAzNbyq3E8150n`* کوئی آدمی تین دن کے بعد قربانی کا گوشت نہ کھائے، پھر جب آئندہ سال حضرات صحابہ کرام ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ نے اس پر عمل کیا تو آپ ﷺ نے اعلان فرمایا فكلوا اما بدالكم وأطعمو او ادخرو جب تک چاہو کھاؤ، کھلاؤ اور جمع کر کے رکھو اور گزشتہ سال منع کرنے کی وجہ بھی بتلا دی كنت نهيتكم عن لحوم الأضاحي فوق ثلاث ليتسع ذو الطول على من لا طول له کہ سال گزشتہ میں نے تم کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے اس لیے منع کیا تھا تاکہ وسعت والے ان لوگوں پر وسعت کریں جن کو قربانی کی وسعت نہیں ہے ! (صحیح مسلم شریف جلد 2 صفحہ 158) مسئلہ نمبر52) اگر کسی شخص نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا اور وہ اس کے بدلے دوسرے جانور کی قربانی کرنا چاہے، تو دوسرا جانور پہلے جانور کی قیمت سے کم پر نہ خریدے، اور اگر اس نے دوسرا جانور پہلے جانور کی قیمت سے کم پر خرید لیا، تو پہلے اور دوسرے جانور کی قیمت میں جتنا فرق ہے اتنی قیمت صدقہ کر دے ! (فتاوی ہندیہ جلد 5 صفحہ 294) مسئلہ نمبر53) بعض لوگ قربانی کے جانور کی ہڈیاں نمک کے عوض فروخت کرتے ہیں، ہڈیوں کی یہ بیع جائز تو ہے، مگر اس کے عوض جو نمک لیا گیا، وہ یا اس کی قیمت کا صدقہ کرنا لازم ہے ! (المبسوط للسرخسی جلد 12 صفحہ 19) مسئلہ نمبر54) اگر کسی شخص نے قربانی کا جانور خریدا، تو جانور خریدتے وقت جانور کے گلے میں جو رسی یا زنجیر وغیرہ ہے، اس کا صدقہ کر دینا مستحب ہے اور اگر فروخت کردیا تو اس کی قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہے، اور اگر رسی یا زنجیر وغیرہ خود استعمال کرنا چاہے تو کرسکتا ہے ! (البحرالرائق جلد 8 صفحہ 327) مسئلہ نمبر55) اگر کسی شخص نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا تو خرید نے کے بعد اس جانور سے دودھ نکالنا، خواہ خود اس کے استعمال کیلئے ہو یا فروخت کرنے کے لیے ہو، جائز نہیں، اور اگر کسی شخص نے دودھ نکال لیا، تو دودھ یا اس کی قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہوگا ! (البحرالرائق جلد 8 صفحہ 327) مسئلہ نمبر56) اگر کسی شخص نے ایام قربانی سے پہلے قربانی کی نیت سے کوئی جانور خرید لیا ہے، تو اس جانور کا اون کاٹنا اور اس سے نفع اٹھانا مکروہ ہے، البتہ اس عمل کے بعد بھی قربانی درست ہو جائیگی اور کاٹے ہوئے اون یا اس کی قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہے ! (فتاوی ہندیہ جلد 5 صفحہ 301) مسئلہ نمبر57) قربانی کے جانور کی اوجھڑی کھانا درست ہے، کیوں کہ اوجھڑی جانور کے ان سات اعضاء میں داخل نہیں جن کا کھانا جائز نہیں ! (بدائع الصنائع جلد 6 صفحہ 272) مسئلہ نمبر58) اگر قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کے پیٹ سے زندہ بچہ نکل آئے، تو شرعاً اسے بھی ذبح کرنے کا حکم ہے لیکن اگر کسی شخص نے اس بچہ کو ذبح کرنے کے بجائے اسے پال لیا اور اس کے بڑے ہونے پر اپنے اوپر واجب قربانی میں اس کو ذبح کیا، تو اس کی واجب قربانی ادا نہ ہوگی، اس کا پورا گوشت صدقہ کرنا لازم ہوگا، اور اس شخص پر اس کی جگہ دوسری قربانی بھی واجب ہوگی ! (رد المحتار جلد 9 صفحہ 391) مسئلہ نمبر59) اگر قربانی کا جانور ذبح کرنے کے بعد پیٹ سے زندہ بچہ نکل آئے تو اس کو ذبح کر دیا جائے اور اگر مردہ نکلے تو اس کو استعمال میں لانا جائز نہیں ! (بدائع الصنائع جلد 5 صفحہ 87) #قربانی_کا_بیان_101_فقہی_مسائل ===> جاری ہے *الفلاح واٹس ایپ چینل لینک* *`https://whatsapp.com/channel/0029VaB6oVjAzNbyq3E8150n`*

Comments