الفلاح اسلامک چینل(1)
June 3, 2025 at 02:58 PM
*{قربانی کا بیان}* {101 فقہی مسائل} {کل 7 قسطیں ہیں ! *قسط نمبر 5* مسئلہ نمبر60) قربانی کی کھال فروخت کرنے کے بعد جو رقم قیمت کے طور پر ملتی ہے، وہ صدقہ کر دینا واجب ہے اور صدقہ کی حقیقت یہ ہے کہ جس کو دیا جائے وہ مالک بن جائے، چونکہ مسجد میں تملیک نہیں پائی جاتی، اس لیے قربانی کی کھال کی رقم مسجد کی تعمیر اور امام و مؤذن اور خادم وغیرہ کی تنخواہ، اسی طرح قبرستان یا مسجد کی چہار دیواری بنانے میں صرف کرنا جائز نہیں ! (رد المحتار جلد 9 صفحہ 398) مسئلہ نمبر61) قربانی کی کھال سے خود فائدہ اٹھانا یا کسی کو دے دینا دونوں جائز ہے، خواہ وہ شخص جس کو کھال دی جا رہی ہے مالدار ہو یا فقیر، ہاشمی ہو یا غیر ہاشمی، اپنے اصول و فروع ہو یا اجنبی، نیز اس میں تملیک بھی واجب نہیں ہے، اسی لیے خود اپنے لئے اس کا مصلی اور ڈول وغیرہ بنا لینا یا کسی اور کام میں لانا جائز ہے ! (احکام القران للجصاص جلد 3 صفحہ 310) مسئلہ نمبر62) کسی جماعت یا تنظیم کا قربانی کی کھال کی رقم کو مستقل آمدنی کا ذریعہ بنانا، مثلاً اس رقم سے کوئی ایسی جائداد یا پراپرٹی خریدنا کہ اس سے مستقل آمدنی ہوتی رہے، جس سے غریبوں، مسکینوں اور ضرور تمندوں کی مدد کی جاسکے، شرعاً جائز نہیں ہے، بلکہ کھال جمع کرنے والی جماعت یا برادری پر لازم ہے کہ وہ جلد از جلد اس رقم کا کسی مستحق صدقہ کو مالک بنا دے ورنہ گنہگار ہوگا، اس لیے کہ اس رقم کا تصدق واجب ہے اور تصدق کی حقیقت بھی یہی ہے کہ کسی مستحق صدقہ کو اس کا مالک بنا دیا جائے ! (البحر الرائق جلد 8 صفحہ 327) *الفلاح واٹس ایپ چینل لینک* *`https://whatsapp.com/channel/0029VaB6oVjAzNbyq3E8150n`* مسئلہ نمبر63) قربانی کی کھال فروخت کرنے کے بعد اس کی قیمت کی رقم فقراء اور مساکین پر صدقہ کرنا یعنی ان کو مالک بنا کر دینا ضروری ہے، فقراء اور مساکین کے علاوہ کسی اور مصرف میں صرف کرنا جائز نہیں ہے، اگر شدید مجبوری کی صورت میں ایسی رقم کو کسی اور مصرف میں صرف کرنے کی ضرورت ہے تو حیلہ کرنا ضروری ہے اور حیلہ کی صورت یہ ہے کہ کھال فروخت کرنے کے بعد جو رقم حاصل ہوگی وہ رقم کسی مسکین یا فقیر کو دے کر مکمل طور پر مالک بنا دیا جائے، پھر اس سے کہا جائے کہ آپ اپنی طرف سے اس رقم کو مثلاً مسجد یا مدرسے کی تعلیم یا اساتذہ کرام کی تنخواہ وغیرہ میں دے دیں اور وہ خوشی سے دے دیں، تو اس رقم کو مسجد، مدرسہ یا اساتذہ کرام کی تنخواہ وغیرہ میں دینا اور خرچ کرنا جائز ہوگا، مگر رقم دیتے وقت یہ شرط نہ رکھے بلکہ مالک بنا کر دینے کے بعد اس سے کہے، اگر قربانی کرنے والے نے قربانی کی کھال کسی فقیر مستحق آدمی کو دے دی اور وہ شخص جس کو کھال دی ہے، کھال کو فروخت کرکے کسی پڑھانے والے استاد کو تنخواہ دے دے، یا مسجد کی تعمیر میں خرچ کردے تو جائز ہے، لیکن اگر قربانی کرنے والا خود فروخت کرے تو پھر وہ اس کھال کے روپئے کو معلم وغیرہ کی تنخواہ یا مسجد میں نہیں دے سکتا، بلکہ صدقہ کر دینا لازم ہوگا ! (بدائع الصنائع جلد 2 صفحہ 39) مسئلہ نمبر64) جانور ذبح کرنے سے پہلے کھال فروخت کرنا حرام ہے، لہذا جو لوگ ذبح سے پہلے ہی کھال فروخت کرتے ہیں، وہ ناجائز اور حرام کرتے ہیں، باقی وعدہ کرنا جائز ہے ! (بدائع الصنائع جلد 5 صفحہ 147) مسئلہ نمبر65) قربانی کی کھالیں فروخت کرنے کے بعد ان کا حکم زکوة کی رقم کا ہے، جس کی تملیک ضروری ہے اور مسجد ، مدرسہ یا کنویں کی تعمیر میں تملیک نہیں پائی جاتی، اس لیے اس میں خرچ کرنا درست نہیں ! مسئلہ نمبر66) قربانی کی کھالیں فروخت کرنے کے بعد ان کا حکم زکوة کی رقم کا ہے، جس میں تملیک ضروری ہے اور بغیر تملیک کے رفاہی کاموں میں اس کا خرچ کرنا درست نہیں، لہاذا قربانی کی کھالیں ایسے اداروں اور جماعتوں کو دینا چاہئیے، جو شرعی اصولوں کے مطابق ان کو صحیح جگہ خرچ کرتے ہیں ! مسئلہ نمبر67) اگر قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کے لیے گراتے وقت اس میں کوئی عیب پیدا ہوجائے، تو اس سے صحت قربانی میں کوئی فرق نہیں پڑتا، قربانی درست ہوجاتی ہے ! (المحیط البرہانی جلد 5 صفحہ 476) مسئلہ نمبر68) بعض لوگ قربانی کے جانور کو قربانی کرنے کے لیے قربان گاہ لیجاتے وقت اس کی پچھلی ٹانگوں کو آگے کی طرف سے کھینچتے ہیں، ان کا یہ عمل مکروہ ہے، مستحب یہ ہے کہ اسے اچھے انداز میں ہانک کر ذبح کی مخصوص جگہ تک لایا جائے ! (بدائع الصنائع جلد 6 صفحہ 320) مسئلہ69) اگر قربانی کے ارادہ سے جانور خریدا، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ گابھن ہے، تو اس صورت میں اگر جانور خریدنے والا صاحب نصاب ہے، تو وہ اس جانور کے بجائے دوسرا جانور خرید کر قربانی کر سکتا ہے اور اگر جانور خریدنے والا خود نصاب کا مالک نہیں تھا تو اس پر اسی جانور کی قربانی لازم ہوگی ! مسئلہ نمبر70) سودی قرض کی رقم سے خریدے ہوئے جانور کی قربانی کرنا جائز ہے، کیوں کہ اس صورت میں بھی قرض لینے والا شخص قرض کی رقم کا مالک بن جاتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ سود پر قرض لینا اور دینا دونوں حرام ہے، مگر اس سے قربانی کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ! (صحیح مسلم شریف جلد 2 صفحہ 27) مسئلہ نمبر71) جو جانور کانجی ہاؤس میں داخل کر دیا گیا، اس پر سرکار کو استیلاء ملک حاصل ہوجاتی ہے، تو سرکار سے خریدنا گویا اصل مالک سے خریدنا ہے، لہذا اگر کوئی شخص ایسے جانور کی قربانی کرتا ہے، تو اس کی قربانی درست ہوگی ! (الدر مع الشامیہ جلد 6 صفحہ 198) مسئلہ نمبر72) کسی شخص نے کوئی جانور چوری کر کے اس کی قربانی کر دی تو اس کی قربانی جائز نہ ہوگی، کیوں کہ وہ اس جانور کا مالک نہیں اور نہ ہی اصل مالک کی طرف سے جائز ہوگی، کیوں کہ اس کی طرف سے اس کی اجازت نہیں ہے، البتہ ذبیحہ حلال ہے، لیکن مالک کی اجازت حاصل کیے بغیر اس گوشت کا استعمال جائز نہیں ! مسئلہ نمبر73) اگر کسی جانور کے بچہ کی پرورش سور کے دودھ سے ہوئی ہو تو وہ بچہ حلال ہے، اس کی قربانی درست ہے، لیکن قربانی کرنے سے پہلے چند روز تک یعنی کم سے کم دس دن دوسرا چارہ دینا چاہئیے ! (البحر الرائق جلد 8 صفحہ 335) مسئلہ نمبر74) خنثی مشکل بکرے کی قربانی کرنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ اس کا گوشت اچھی طرح سے پکتا نہیں، لیکن اگر کسی نے اتفاقا اس کی قربانی کرلی اور اس کا گوشت اچھی طرح سے پک گیا، تو قربانی صحیح ہوگی، کیونکہ عدمِ جواز کی علت گوشت کا اچھی طرح سے نہ پکنا تھا، اب جب پک گیا تو یہ ظاھر ہوا کہ عدم جواز کی علت نہیں پائی گئی اور یہ اصول بھی ہے کہ ارتفاع علت ارتفاع حکم کو مستلزم ہے ! مسئلہ نمبر75) نیل گائے کی قربانی درست نہیں، قربانی کے جانوروں کی تعیین شرعی سماعی ہے، قیاس کو اس میں دخل نہیں اور شریعت مقدسہ میں صرف تیں قسم کے جانوروں کی قربانی درست ہے ! پہلی قسم) اونٹ نر و مادہ ! دوسری قسم) بکرا ، بکری ، مینڈھا(دنبہ) ، بھیڑ نر و مادہ ! تیسری قسم) گائے ، بھینس نر و مادہ ! 🗒🖋نوٹ : ان کے علاوہ کسی بھی جانور کی قربانی کرنا درست نہیں ہے اور ان جانوروں کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ وحشی نہ ہو بلکہ پالتو اور انسانوں سے مانوس ہوں ! (البحر الرائق جلد 4 صفحہ 324) مسئلہ نمبر76) ہرن حلال ہے، اس کا گوشت کھانا جائز ہے، لیکن چونکہ وحشی جانوروں میں سے ہے اور وحشی جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے، لہذا ہرن یا ہرنی کی قربانی جائز نہیں ہے، اس کے مانوس ہونے یا نہ ہونے سے حکم میں کوئی فرق نہیں آتا ! (بدائع الصنائع جلد 4 صفحہ 205 ، البحر الرائق جلد 8 صفحہ 324) مسئلہ نمبر77) بعض لوگ خصی بکرے، مینڈھے اور بیل کی قربانی کو ناجائز سمجھتے ہیں، جبکہ خصی جانوروں کی قربانی بلا کراہت درست ہے، چاہے خصیتین کاٹ کر نکال دیے جائیں یا دبا کر، دونوں صورتوں میں قربانی صحیح ہے، کیوں کہ یہ عیب گوشت کی عمدگی کیلیئے قصداً کیا جاتا ہے، اس لئے اس میں کوئی کراہت نہیں ! (مشکوة المصابیح صفحہ 128) #قربانی_کا_بیان_101_فقہی_مسائل ===> جاری ہے

Comments