الفلاح اسلامک چینل(1)
June 3, 2025 at 02:58 PM
*{قربانی کا بیان}*
{101 فقہی مسائل}
{کل 7 قسطیں ہیں !
*قسط نمبر 6*
مسئلہ نمبر78) بانجھ جانور کی قربانی درست ہے، کیوں کہ اس پر ممانعت کا حکم وارد نہیں ہے اور بانجھ ہونا قربانی کے لیے عیب نہیں ہے، بلکہ بانجھ جانور اکثر و بیشتر لحیم و شحیم (خوب موٹا تازہ) ہوتا ہے اور گوشت بھی عمدہ ہوتا ہے، اس لیے اس کی قربانی جائز ہے ! (فتاوی ہندیہ جلد 5 صفحہ 297)
مسئلہ نمبر79) جرسی گائے و بیل کی پیدائش فطری طریقہ یعنی نر و مادہ کے اختلاط سے نہیں ہوتی، مگر چونکہ ان کی ولادت گائے ہی سے ہوتی ہے، اس لیے ان کا کھانا حلال ہے اور ان کی قربانی کرنا بھی جائز ہے، البتہ قربانی ایک عظیم عبادت ہے اور اس کے لیے جب غیر مشتبہ جانور بآسانی دستیاب ہوسکتے ہوں، تو اس قسم کے مشتبہ جانور کی قربانی سے بچنا بہتر و اولی ہے ! (فتاوی ہندیہ جلد 5 صفحہ 297)
مسئلہ نمبر80) بعض حضرات یہ خیال کرتے ہیں کہ بھینس کی قربانی درست نہیں ہے، ان کا یہ خیال غلط ہے، کیوں کہ شریعت مقدسہ میں تین قسم کے جانوروں کی قربانی کرنا جائز ہے اور فقہاء کرام نے ان تین قسموں میں گائے کے ساتھ بھینس کو بھی شمار کیا ہے ! (بدائع الصنائع جلد 4 صفحہ 205)
*الفلاح واٹس ایپ چینل لینک*
*`https://whatsapp.com/channel/0029VaB6oVjAzNbyq3E8150n`*
مسئلہ نمبر81) اگر قربانی کے جانور کے کان تو ہیں لیکن پیدائشی طور پر بالکل چھوٹے چھوٹے ہیں، تو اس کی قربانی درست ہے ! (در المختار مع شامی جلد 9 صفحہ 393)
مسئلہ نمبر82) جس جانور کے پیدائش سے سینگ نہیں، یا سینگ تو تھے مگر ٹوٹ گئے، تو اس کی قربانی درست ہے، البتہ اگر سینگ بالکل جڑ سے ٹوٹ گئے ہوں، تو قربانی درست نہیں ہے !
مسئلہ نمبر83) اگر بھیڑ، بکری، دنبی وغیرہ کے ایک تھن سے دودھ نہ اترتا ہو، تو اس کی قربانی درست نہیں ہے، کیوں کہ ایک تھن سے دودھ نہ اترنا بھیڑ، بکری، دنبی وغیرہ میں عیب ہے اور عیب دار جانور کی قربانی کرنے سے قربانی درست نہیں ہوتی ہے !
مسئلہ نمبر84) اگر اونٹنی، گائے اور بھینس کے دو تھنوں سے دودھ نہ اترتا ہو، تو اس کی قربانی درست نہیں ہے، کیوں کہ یہ عیب ہے اور عیب والے جانور کی قربانی درست نہیں ہوتی ! (فتاوی ہندیہ جلد 5 صفحہ 299)
مسئلہ نمبر85) جس جانور کو کھجلی کی بیماری ہے اور اس کا اثر گوشت تک نہ پہنچا ہو، تو اس کی قربانی درست ہے اور اگر بیماری اور زخم کا اثر گوشت تک پہنچا ہو، تو اس کی قربانی صحیح نہیں ہے ! (الدر مع الرد جلد 9 صفحہ 391)
مسئلہ نمبر86) بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ باؤلے جانور کی قربانی درست نہیں ہے، جبکہ اس کی قربانی جائز ہے، کیوں کہ باؤلہ پن قربانی کے لیے عیب نہیں ہے، ہاں اگر باؤلے پن کی وجہ سے کھا پی نہ سکتا ہو تو اس کی قربانی درست نہیں ہے ! (فتاوی ہندیہ جلد 5 صفحہ 298)
مسئلہ نمبر87) جس جانور کی زبان کٹی ہوئی ہو، اگر وہ بکری ہے تو اس کی قربانی جائز ہے، کیوں کہ وہ چارہ دانت سے کھاتی ہے اور اگر وہ جانور گائے ہے تو اس کی قربانی جائز نہیں، کیوں کہ وہ چارہ زبان سے کھاتی ہے ! (الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید جلد 5 صفحہ 212)
مسئلہ نمبر88) بھینگی آنکھ والے جانور کی قربانی جائز و درست ہے ! (قتاوی ہندیہ جلد 5 صفحہ 298)
مسئلہ نمبر89) اگر کوئی جانور پوری طرح ایک یا دونوں آنکھوں سے اندھا ہے، تو اس کی قربانی درست نہیں ہے، کیوں کہ اندھا ہونا یہ عیوب میں سے ہے، جن کے پائے جانے پر قربانی جائز نہیں ہوتی ہے ! (المحیط البرہانی جلد 6 صفحہ 478)
مسئلہ نمبر90) جس جانور کی ران اور کسی عضو پر لوہے سے داغ دیا ہوا ہو، تو اس کی قربانی جائز ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ قربانی کے لیے ایسے جانور کا انتخاب کیا جائے، جس میں کوئی ظاہری عیب بھی نہ ہو ! (در المختار جلد 9 صفحہ 468)
مسئلہ نمبر91) جس جانور کی عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کے سارے دانت گر گئے ہوں یا گھس گھس کر مسوڑھوں سے جا ملے ہوں، لیکن وہ گھاس کھانے پر قادر ہے تو اس کی قربانی درست ہے اور اگر گھاس کھانے پر قادر نہیں ہے تو اس کی قربانی جائز نہیں ہے !
(در المختار مع شامی جلد 9 صفحہ 393)
#قربانی_کا_بیان_101_فقہی_مسائل
===> جاری ہے