الفلاح اسلامک چینل(1)
June 3, 2025 at 02:59 PM
*{قربانی کا بیان}*
{101 فقہی مسائل}
کل 7 قسطیں ہیں !
*قسط نمبر 7*
مسئلہ نمبر92) بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس کا عقیقہ نہ ہوا ہو، اس کی قربانی درست نہیں ہوتی، یہ غلط ہے، بلکہ جو شخص قربانی کے دنوں میں صاحب نصاب ہو اس پر قربانی کرنا واجب ہو جاتی ہے اور قربانی کرنے سے قربانی درست ہوجاتی ہے، چاہے اس کا عقیقہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو ! (مجمع الانہر جلد 3 صفحہ 166)
مسئلہ نمبر93) بعض نے قربانی کے لیے اور بعض نے ولیمہ یا عقیقہ کے واسطے ایک ہی بڑے جانور میں حصہ خریدا ہو تو یہ جائز ہے، شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں اور کسی کی قربانی باطل بھی نہیں ہوگی ! (تبیین الحقائق جلد 6 صفحہ 485)
*الفلاح واٹس ایپ چینل لینک*
*`https://whatsapp.com/channel/0029VaB6oVjAzNbyq3E8150n`*
مسئلہ نمبر94) والد کے ذمہ اپنے لڑکے یا لڑکی کا عقیقہ کرنا، بلوغت سے پہلے، ساتویں دن، چودہویں دن، یا اکیسویں دن مستحب ہے، بلوغت کے بعد عقیقہ والد کے ذمہ باقی نہیں رہتا بلکہ ساقط ہو جاتا ہے، البتہ بلوغت کے بعد لڑکا یا لڑکی خود اپنا عقیقہ کرے، یا کوئی اور شخص مثلا کوئی عزیز یا شوہر اپنی طرف سے اپنی بیوی کا عقیقہ کر دے تو درست ہوگا اور رہی بات لڑکی کے نام کے ساتھ کس کا نام رہے گا، شوہر یا باپ کا؟ تو اس کے نام کے ساتھ اس کے باپ کا نام رہے گا ! (اعلاء السنن جلد 17 صفحہ 131)
مسئلہ نمبر95) عقیقہ کے گوشت کو تین برابر حصوں میں تقسیم کر کے، ایک حصہ فقراء و مساکین کو، دوسرا عزیز رشتہ داروں کو اور تیسرا حصہ اپنے گھر میں استعمال کر لیا جائے اور اگر کوئی شخص سارا گوشت گھر میں بنا کر عزیز رشتہ داروں کی دعوت کرے، تو یہ بھی جائز اور درست ہے ! (اعلاء السنن جلد 17 صفحہ 140)
مسئلہ نمبر96) حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیاہی و سفیدی مائل رنگ کے سینگوں والے دو مینڈھوں کی قربانی کی، اپنے دست مبارک سے ان کو ذبح کیا، اور ذبح کرتے وقت بِسم اللّهِ واللّهُ اکبر پڑھا، میں نے دیکھا کہ اس وقت آپ ﷺ اپنا پاؤں ان کے پہلو میں رکھے ہوئے تھے اور زبان مبارک سے بسم الله والله اکبر کہتے جاتے تھے !
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے ان مینڈھوں کو قبلہ رخ لٹا کر یہ دعا پڑھی اِنّی وَجَّھتُ وجھی لِلّذی فطر السموات والارض عَلی مِلّة ابراھیم حنیفًا وما انا مِن المشرکین، اِنَّ صَلوتی و نُسکی ومَحیای ومَماتی لِلّه رَبّ العالمین، لا شریک له وبِذلک اُمرتُ وانا اوّل المسلمین، اللّھم مَنک ولک عن محمد وامة بِسم اللّه واللّه اکبر (مسند احمد)
اس لیے جب قربانی کا جانور قبلہ رخ لٹائے تو پہلے اوپر ذکر کردہ آیت پڑھنا بہتر ہے اور ذبح کرنے سے پہلے یہ دعا اگر یاد ہو تو پڑھے اللھم منک ولک پھر بسم الله الله اکبر کہہ کر ذبح کرے اور ذبح کرنے کے بعد یہ دعا اگر یاد ہو تو پڑھے اللّھم تقبّله مِنّی کما تقبّلتَ مِن حَبِیبِک محمد و خَلِیلک ابراھیم علیھما الصلاة والسلام اور اگر کسی اور کی طرف سے ذبح کر رہا ہے تو مِنّی کی جگہ مِن فلان کہے، اور فلان کی جگہ اس کا نام لے لے ! (قربانی کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا صفحہ 73)
مسئلہ نمبر97) تکبیر تشریق نویں ذی الحجہ کی فجر سے لے کر تیرھویں ذی الحجہ کی عصر تک، فوراً بعد ایک بار پڑھنا واجب ہے، یہاں تک کہ اگر جان بوجھ کر وضو توڑ ڈالا تو تکبیر تشریق ساقط ہوجائے گی !
مسئلہ نمبر98) تکبیر تشریق کہنا مقیم ، مسافر ، مرد ، عورت ، امام ، مقتدی سب پر واجب ہے، اگر تکبیر تشریق کہنا بھول گیا تو پھر بعد میں اس کی قضا نہیں ہے، توبہ کرنا لازم ہوگا تاکہ گناہ معاف ہوجائے !
مسئلہ نمبر99) اگر کسی شخص کی ایام تشریق کے دوران کوئی نماز قضا ہوگئی اور وہ اسی سال ایام تشریق کے دوران اس کی قضا کرے، تو اس پر بھی اس قضا نماز کے بعد تکبیر تشریق کہنا لازم ہوگا !
مسئلہ نمبر100) بہت سی ایسی جگہوں پر جہاں عید گاہ نہیں ہوتی، وہاں لوگ نماز عیدین اپنے اپنے محلہ کی مسجدوں میں پڑھ لیتے ہیں، جبکہ شرعی تقاضہ یہ ہے کہ وہ بڑا گاؤں جو قصبہ کی طرح ہو اور وہاں حضرات علماء کرام نے جمعہ و عیدین وغیرہ پڑھنے کی اجازت دے رکھی ہو، وہاں آبادی سے باہر جنگل میں عیدگاہ بنانا ضروری ہے، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ نے عید گاہ میں نماز عید کے لیے جمع ہونے کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی بتلائی ہے کہ ملت اور مذہب کے لیے ایک دن ہوتا ہے، جس میں ان کی شان و شوکت ظاہر ہو اور ان کی تعداد زیادہ معلوم ہو، اسی وجہ سے عید گاہ میں تمام لوگوں کو جمع ہونے کو سنت قرار دیا،
آنحضرت ﷺ ایک راستے سے آتے تھے اور دوسرے راستے سے واپس ہوتے تھے، تاکہ دونوں راستوں کے باشندے، مسلمانوں کی شان و شوکت کو اچھی طرح سے دیکھ لیں، لہاذا جس طرح سے ہو جلد از جلد عید گاہ بنادے، اس وقت تک کے لیے آبادی سے باہر کوئی جگہ تجویز کرلیں، تمام مسلمان اسی میں نماز پڑھیں اور اجر عظیم کے حقدار بنیں، انشاءاللہ سبقت کرنے والے زیادہ ثواب کے حقدار ہوں گے ! (فتاوی رحیمیہ جلد 3 صفحہ 67)
مسئلہ نمبر101) عید کی نماز کا طریقہ / مردوں کے لئے
⭐️نیت :/ اس طرح کریں کہ میں دو رکعت نماز واجب عید الاضحیٰ کی چھ زائد تکبیروں کے ساتھ اس امام کے پیچھے پڑھتا ہوں، پھر امام اور مقتدی اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لیں اور ثناء کے بعد تین زائد تکبیریں کہیں اور ہر دو تکبیر کے درمیان تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کے بقدر خاموش رہیں !
وہ اس طرح کہ : اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ کانوں تک اٹھائیں اور چھوڑ دیں !
پھر اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ کانوں تک اٹھائیں اور چھوڑ دیں !
پھر اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ کانوں تک اٹھائیں اور باندھ لیں !
اس کے بعد امام حسب معمول سورة فاتحہ اور کوئی سورة پڑھ کر پہلی رکعت پوری کر لے (بہتر یہ ہے کہ مسنون سورتیں پڑھیں) اور دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہو کر سورة فاتحہ اور سورة پڑھنے کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے امام اور مقتدی زائد تین تکبیریں پڑھیں !
وہ اس طرح کہ : اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ کانوں تک اٹھائیں اور چھوڑ دیں !
پھر اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ کانوں تک اٹھائیں اور چھوڑ دیں !
پھر اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ کانوں تک اٹھائیں اور چھوڑ دیں !
اور چوتھی مرتبہ کانوں تک ہاتھ اٹھائے بغیر اللہ اکبر کہہ کر رکوع میں چلے جائیں اور نماز پوری کریں، نماز کے بعد دعا پڑھیں، اس کے بعد دو خطبے پڑھیں اور ان دو خطبوں کے درمیان تین چھوٹی آیتیں پڑھنے کی بقدر بیٹھ جائیں !
واٰخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين
#قربانی_کا_بیان_101_فقہی_مسائل
===> آخری ہے