Hanfiyaat Institute
May 25, 2025 at 06:32 PM
`علم حدیث کی چند اہم اور ضروری اصطلاحات`
`حدیث:`
حدیث کا لغوی معنی قدیم کی ضد ہے اور اصطلاحی تعریف یہ ہے:
*نقل ما اضیف الی النبی صلی اللّٰه علیه وسلم من اقول او فعل او تقریرا و وصف*
یعنی: نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف جس قول،فعل،تقریر یا وصف کی نسبت کی گئی ہے اس کے بیان کو حدیث کہتے ہیں۔
`سنت:`
لغت میں سنت کا معنی ہے طریقہ اور سیرت،بعض علما نے کہا سنت حدیث کے مترادف ہے اور علامہ ابن اثیر نے سنت کی یہ تعریف کی ہے:
*ما امر به النبی صلی اللّٰه علیه وسلم و نھٰی عنه و ندب الیه قولا او فعلا مما لم ینطق به الکتاب العزیز*
یعنی:جس چیز کا نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور جس چیز سے منع فرمایا اور جس چیز کو قول اور فعل سے پسندیدہ قرار دیا،بہ شرطیکہ ان امور کا قرآن مجید میں ذکر نہ ہو،وہ امور سنت ہیں۔
`خبر:`
خبر اور حدیث مترادف ہے اور ایک قول یہ ہے کہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم،صحابی اور تابعی کی طرف جو قول منسوب ہو وہ حدیث ہے اور خبر عام ہے خواہ وہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف ہو یا کسی اور کی طرف،اسی وجہ سے جو حدیث میں مشغول ہو اس کو *محدث* اور جو تاریخ میں مشغول ہو اس کو *اخباری* کہتے ہیں۔
`اثر:`
یہ حدیث کا مترادف ہے اور ایک قول یہ ہے کہ صحابہ اور تابعین کے اقوال اور افعال کو اثر کہتے ہیں۔
`اسناد،سند:`
رجال(راویوں)کا وہ سلسلہ جو متن حدیث تک پہنچائے۔
`متن:`
جس کلام تک پہنچ کر سند ختم ہو جائے،یعنی حدیث کی عبارت۔
*(بحوالہ:شرح صحیح مسلم مقدم از شارح صحیح بخاری،صفحہ 97)*
❤️
💓
2