Girls Talk With Warda| Grow, Glow & Gupshup |Deen & Duniya | Mom & Baby| Relationships | Poetry|Joks
Girls Talk With Warda| Grow, Glow & Gupshup |Deen & Duniya | Mom & Baby| Relationships | Poetry|Joks
June 10, 2025 at 04:53 AM
*خدا کی راہ میں خرچ نہ کرنے والوں کا انجام* قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی راہ میں خرچ نہ کرنے والوں کے مال کو تباہ و برباد کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں باغ والوں کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، جس کا خلاصہ تفسیر میں یوں بیان کیا گیا ہے: ملک یمن یا حبشہ میں ایک نیک شخص کا باغ تھا۔ وہ اس باغ کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ غریبوں اور مسکینوں پر خرچ کرتا تھا۔ جب وہ شخص وفات پا گیا تو اس کی اولاد اس کی وارث بنی۔ انہوں نے آپس میں کہا: "ہمارا باپ نادان تھا جو اتنی بڑی آمدنی مساکین پر خرچ کر دیتا تھا، اگر یہ سب کچھ ہمارے پاس رہے تو ہم بڑی آسودگی سے رہ سکتے ہیں۔" چنانچہ ایک دن انہوں نے قسم کھائی کہ صبح سویرے جا کر باغ کا پھل ضرور توڑ لیں گے، لیکن "ان شاء اللہ" کہنا گوارا نہ کیا۔ صبح ہوئی تو ایک دوسرے کو پکارنے لگے: "چلو، اپنے باغ کی طرف چلیں، تاکہ اس کا پھل توڑ سکیں۔" وہ چپکے چپکے آپس میں کہنے لگے کہ آج کسی مسکین کو ہمارے باغ کے قریب نہ آنے پائے۔ جب وہ باغ کے پاس پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ باغ مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا، گویا فصل کاٹ کر آگ لگا دی گئی ہو۔ وہ کہنے لگے: "شاید ہم راستہ بھول گئے ہیں اور کسی اور جگہ آگئے ہیں۔" لیکن جب غور سے دیکھا اور یقین ہو گیا کہ یہ وہی ان کا باغ ہے، تو پکار اٹھے: "بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ" "بلکہ ہم ہی محروم ہو گئے ہیں!" پھر وہ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ (سورۃ القلم: آیات 17-32، تفسیر قرطبی: 240/20، روح المعانی: 23/29-24، معارف القرآن: 526/8) علمائے کرام نے واضح کیا ہے کہ ان پر یہ عذاب اس لیے آیا کہ انہوں نے مساکین کا وہ حق ادا کرنے کا ارادہ ترک کیا تھا جو اللہ تعالیٰ نے ان کے مال میں فرض کیا ہے۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں: "یہ سزا اس وجہ سے ہوئی کہ انہوں نے مساکین کو ان کا حق دینے سے انکار کا ارادہ کیا تھا۔" (قرطبی: 240/20) حاصلِ کلام یہ ہے کہ اگر ہم زکوٰۃ جیسے اہم فریضے کو نظر انداز کریں گے تو ہمارے مال کی بربادی اور دوسروں کا اس پر قابض ہو جانا ایک فطری نتیجہ ہے۔
👍 ❤️ 3

Comments