Girls Talk With Warda| Grow, Glow & Gupshup |Deen & Duniya | Mom & Baby| Relationships | Poetry|Joks
Girls Talk With Warda| Grow, Glow & Gupshup |Deen & Duniya | Mom & Baby| Relationships | Poetry|Joks
June 14, 2025 at 04:13 AM
*صحابہ کرام رضی اللّٰہ، تابعین اور اسلاف کے جہادی واقعات* شام میں ”جنگ یرموک“ کا عظیم الشان واقعہ پیش آیا۔ اس جنگ میں رومیوں کی تعداد ایک لاکھ، اور ایک قول کے مطابق تین لاکھ تھی۔ مسلمانوں کا لشکر تیس ہزار مجاہدین پر مشتمل تھا اور لشکر کے امیر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ تھے۔ رومیوں نے مضبوطی کے ساتھ لڑنے کے لیے خود کو زنجیروں میں باندھ رکھا تھا، لیکن جب انہیں شکست ہوئی تو یہی زنجیریں ان کے لیے مصیبت بن گئیں، اور ان میں سے جو کوئی دریا میں گرتا، وہ اپنے ساتھ پانچ چھ کو لے ڈوبتا۔ اس لڑائی میں بے شمار رومی مارے گئے اور مسلمان اُمراء میں سے بھی کئی حضرات نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ اسی سال ”جنگ قادسیہ“ بھی ہوئی جس میں مسلمانوں کے امیر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے، جبکہ مشرکین کی کمان "رستم" کے ہاتھ میں تھی، اور ان کی تعداد ساٹھ ہزار تھی۔ ان کے ساتھ ستر ہاتھی بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو شکست دی، حالانکہ مسلمانوں کی تعداد سات سے آٹھ ہزار کے درمیان تھی۔ اس لڑائی میں رستم مارا گیا اور مسلمانوں کے ہاتھ بے شمار غنائم آئے۔ حبیب بن صہبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس دن ہمیں اتنا سونا اور چاندی ملا کہ بعض لوگ سونے کو چاندی کے بدلے بیچ رہے تھے۔ ہر گھڑ سوار کو مالِ غنیمت میں بارہ ہزار درہم ملے۔ مالِ غنیمت میں ایک ساٹھ گز لمبی چوڑی چادر بھی تھی، جس میں ریشم اور چاندی کا کام ہوا تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے مجاہدین سے درخواست کی کہ اگر وہ خوش دلی سے اس قالین کے چار حصے چھوڑ دیں، تو یہ سارا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیج دیا جائے۔ تمام مجاہدین نے خوشی سے اجازت دے دی، تو یہ قالین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیج دیا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُسے کاٹ کر اس کے ٹکڑے لوگوں میں تقسیم فرما دیے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی اس کا ایک ٹکڑا ملا، جو انہوں نے ہزار درہم میں فروخت کیا۔ https://whatsapp.com/channel/0029VaCVC7cKmCPRVtR9Jx2k •Sᑌᗩᗩᗪ OᑎᒪIᑎE ᗩᑕᗩᗪEᗰY•
❤️ 3

Comments