Novel Ki Dunya
June 17, 2025 at 04:24 AM
#ایک_ستم_محبت_کا #ازقلم_زینب_سرور #قسط_نمبر_3 دادی جان کے کمرے تک پہنچتے حرم نے دروازے پر آہستگی سے دستک دی جب کہ مما کی پرنسس جواب آنے سے پہلے ہی اچھلتی کودتی ہوئی اندر چلی گئی ۔ " نور میں نے کتنی بار سمجھایا ہے ڈور ناک کرنے کے بعد دوسرے کے جواب کا بھی ویٹ کیا جاتا ہے " دادی جان کے اندر آنے کا اشارہ دیکھتے ہوئے وہ نور کو سمجھانے لگی ۔ " لو آگئی ٹیچر کی روح گھر تلک بھی ۔ " نور کو گود میں لیتے ہوئے وہ یقیناً حرم کے کالج میں ٹیچر ہونے پر طنز کر رہا تھا ۔ دادی جان نے بدر کی بات پر گھورتے "اونہہ " کردیا ۔ " اور نہیں تو کیا دادی ۔ میری ننھی سی جان کے دماغ میں ابھی سے اپنے لیکچرز فٹ کرنے میں لگی ہوئی ہے ۔اب بھلا اتنی سی بچی کو کیا کیا ۔۔۔ " " اچھا بس بھی کرو بدر ۔ تم تو شروع ہی ہوجاتے ہو ۔ " دادی نے اپنا چشمہ سائڈ ٹیبل سے لگاتے ہوئے کہا حرم سامنے ہی کھڑی تھی ۔ جبکہ نور دونوں ہونٹوں کو دبائے اپنے ڈیڈو کی داڑھی چھونے میں مگن تھی۔ " اور تربیت بچپن میں ہی دی جاتی ہے ۔ کہیں غلط ہوگی تو میں ہوں اسے روکنے ٹوکنے والی موجود ۔ " پہلے کے مناسبت یہ بات حرم نے بھی نوٹ کی تھی اور بدر نے بھی کے دادی جان بدر کو بولنے کا موقع اب ہاتھ سے جانے نہ دیتی تھیں۔ ایک کھچاؤ سا آگیا تھا دادی اور بدر کے بیچ بھی جو کہ بدر کو محسوس تو ہوتا تھا مگر دادی دکھاتی نہ تھیں ۔ شاید وہ شرمندہ نہیں کرنا چاہتی تھیں ۔ کیونکہ یہ ان دونوں میاں بیوی کا معاملہ تھا ۔ " خیر ۔۔۔ دادی آپ نے بلایا مجھے ؟ " حرم نے یاد آنے پر پوچھا تو دادی نے سر ہلایا ۔ " بدر کافی دن بعد آیا ہے نہ تو ایک کام کرو چائے تو بنا لاؤ ۔ " وہ سر ہلاتی ہوئی فوراً باہر نکل گئی پیچھے سے بدر نے دیر تک اسکا تعاقب کیا ۔ اور تھوڑی ہی دیر بعد وہ چائے کے دو کپ لئے اندر بھی آگئی ۔ " دادی جان یہ ذہمت کرنے کی کیا ضرورت تھی مجھے ابھی نہیں مرنا ۔ " اسکے جملہ مکمل ہونے پر تو حرم نے چائے رکھتے ہوئے ہی گھورا تھا اسے ۔ " بدر ۔۔ " دادی جان نے بھی چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے اسے ٹوکا ۔ " ایک بچی کے باپ ہو اب تم جتنی جلدی سدھر جاؤ اتنا ہی اچھا ہے۔ " " ان ہی حرکتوں کو دیکھ کر میری بچی بگڑ رہی ہے دادی جان آپ نہیں جانتیں بہت بڑی بڑی باتیں کرنے لگی ہے نور صرف اس شخص کی وجہ سے ۔ " حرم نے بھی شکایت لگانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا ۔ " اچھا چھوڑو بیٹا اسکو بعد میں ٹھیک کروں گی ۔ " انہوں نے حرم کی شکایت پر اسے تسلی دی ۔ " ارے حرم بچے خالی چائے نہیں لاتے ساتھ کچھ کھانے کا بھی لے آؤ نہ ۔ بدر بھی پورے ایک ہفتہ بعد آیا ہے ۔ " اور یہاں حرم سکون سے چائے پیتیں دادی کو دیکھتی رہ گئی ۔ مطلب جس کی شکایت لگائی ہے اسہی کی خاطر خواہ کروں ۔ " دادی کیوں بیچاری کا ٹیمپر آزما رہی ہیں ۔ " بدر نے جلا دینی والی ہنسی کے ساتھ کہا ۔ جبکہ حرم لب بھینچے کچن میں چل دی ۔ " تم تو چپ کر جاؤ عزت دو گے تو وہ تمہاری کرے گی نہ میں تو تم دونوں کی صلح کرواتے کرواتے ہی مر جاؤں گی مگر تم دونوں نہیں سمجھو گے ۔ " دادی نے بھی تنگ آتے ہوئے کہا تھا ۔ " دادی کیسی باتیں کرتی ہیں ۔ اچھا میں چپ ہوں اب کیوں نور ؟ " اپنے لبوں پر انگلی رکھتے ہوئے وہ نور کو اشارے کر رہا تھا ۔ وہ بھی زور سے بدر کی بات پر ہنس پڑی ۔ " دونوں باپ بیٹی مل کر بچی کو تنگ کرتے ہو سب جانتی ہوں میں ۔ " دادی نے مزید کہا جب تک حرم بھی ٹرے میں لوازمات لئے آچکی تھی ۔ " جزاک اللّٰہ چلو اب تم بھی بیٹھ جاؤ پھر جا کی پیکنگ کرلینا ۔ " دادی کی بات پر حرم جہاں تھی وہیں کی رہ گئی ۔ " پیکنگ کس لئے دادی ؟ " حرم سے آتا سوال اور بدر کی نگاہیں ایک ساتھ دادی کی جانب اٹھیں ۔ " گھر پر شادی کی تقریب چل رہی ہے ایسے میں بڑی بہو کا ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ اس لئے تم نور کو لے کر بدر کے ساتھ آج ہی وہاں چلی جاؤ ۔ " دادی کی بات اس پر کسی ایٹم بم کی طرح گری تھی ۔ ابھی بیٹھے دیر ہی کتنی ہوئی تھی اسے کہ وہ فوراً کھڑی ہوگئی ۔ ایک نظر بدر کی جانب کی جو خود دادی کی بات کو ہضم نہ کر پا رہا تھا ۔ وہ خوش ہوا تھا مگر حرم کا ردعمل بھی جانتا تھا جو کبھی نہیں مانے گی ۔ " دادی میں پھر کبھی لے ۔۔۔۔ " بدر کچھ بولنے ہی لگا تھا جب حرم نے اسکی گود سے نور کو چھین کر علیحدہ کردیا ۔ " دیڈو مما نئی ۔۔ مما رتو ناں ڈیدو بلاؤ " نور اسکی گود میں مچل کر بدر کی جانب ہاتھ بڑھا کر چیخ رہی تھی مگر اس نے سب کچھ نظر انداز کیا اور نور کو لے کر کمرے میں بند ہوگئی ۔ " نور بیٹا بس کرو ۔ ڈیڈی چلے گئے ہیں ۔ بس چپ کر جاؤ " اس نے بے اختیار نور جھنجھوڑ کر بولا تو وہ سہم کہ پہلے تو چپ ہوگئی پھر سر گٹھنوں میں چھپائے دونوں ہاتھ اپنے گرد حائل کر لئے ۔ اب کمرے میں نور کی سوں سوں کرتی رونے کی آواز گونج رہی تھی ۔ " نور آئم سوری بیٹا چپ ہو جاؤ نہ ۔ " اس نے صرف ہاتھ ہی لگایا تھا جو نور نے سر جھکائے جھکائے ہی جھٹک دیا ۔ " نور ! " بھیگی آنکھوں سے وہ کبھی نور کی جانب دیکھتی تو کبھی اپنے ہاتھ کو جو ہوا میں معلق تھا ۔ اچانک دروازے پر بھی بہت زور سے دستک ہوئی جس کو ان دونوں ماں بیٹی نے نظر انداز کیا تھا ۔ " نور اس طرح تو مت کرو نہ مما کے ساتھ ۔ میں نے ڈیڈی سے ملنے سے کبھی نہیں روکا نہ آپ کو ۔ مگر میں وہاں نہیں جانا چاہتی نور ۔ مجھے وہاں نہیں جانا وہ لوگ آپ کو مجھ سے چھین لیں گے ۔ مما کو نہیں جانا وہاں ۔" وہ خود بھی چہرہ ہاتھوں میں چھپائے بے تحاشہ رونے لگی ۔ دروازے کی دستکوں میں اب بدر کی آواز کا بھی اضافہ ہوگیا تھا ۔ نور نے آہستگی سے سر اٹھایا اور اپنی ماں کو روتے دیکھ کپکپاتے لبوں کے ساتھ " مما " کہا مگر اسکے منہ سے آواز ہی نہ نکلی ۔ " پرنسس آپ ہی دروازہ کھول دیں ۔ پلیز ڈیڈی ریکوئسٹ کر رہے ہیں بچا ۔ " نور نے حرم کی جانب دیکھا وہ اب تک رونے میں مگن تھی چہرہ بھی نظر نہ آرہا تھا ۔ " حرم ! کیا ہوا ہے ؟ " اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ دروازہ توڑ ڈالے ۔ "نور بے بی اوپن دی ڈور پلیز ۔ " اور نور اب کی بار اٹھ کر دروازے کی جانب بھاگی پھر روتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ہی دروازے کے پاس رکھی کرسی پر چڑھی اور ڈور اَن لاک کردیا ۔ دروازہ دھڑ سے کھلا جیسے بدر ہاتھ رکھے ہی کھڑا تھا ۔ " نور ۔ " بدر کے منہ سے بے اختیار نور نکلا تھا ۔ اور وہ آنکھوں سے آنسو بہاتی تھر تھر کرتے لب لئے اپنی ماں کی جانب اشارہ کرنے لگی۔ " مما اِش کرائینگ ۔ " روتی ہوئی آواز میں بولتی وہ آنکھیں مسلنے لگی ۔ بدر نے اسے گلے سے لگا لیا ۔ اور حرم کو دیکھا جو اب تک ویسے ہی بیٹھی رو رہی تھی ۔ " حرم اٹھو فوراً پہلے تو چھوڑ رہا تھا مگر اب نہیں ۔ خود تو رو رہی ہو بچی کا بھی ۔۔ " وہ اس طرح نہ نور کو دیکھ سکتا تھا نہ ہی حرم کو اس ہی لئے سختی سے گویا ہوا ۔ پھر نور کا چہرہ صاف کرتے ہوئے اس نے دوبارہ اسے خود میں بھینچ لیا ۔ " ڈیڈی کی جان اب نہیں رونا ۔ ہاں ! نور ڈیڈی کے ساتھ ہی رہے گی اوکے ۔ " پیار سے کہتے ہوئے وہ اسے فلحال دادی کے پاس چھوڑ آیا ۔۔ " نور دادی کے پاس بیٹھو میں مما کو لے کر آتا ہوں ۔۔ ہاں رونا نہیں۔ " دادی جان نے اسکو اپنی گود میں بٹھایا اور بدر کی جانب دیکھا ۔ جس پر اس نے آنکھوں سے تسلی دی کہ کچھ نہیں ہوا ۔ کمرے میں واپس آکر اس نے سب سے پہلے دروازہ لاک کیا تھا پھر حرم کے بالکل سامنے جا کہ بیٹھا ۔ اس نے غصّہ لئے اپنی لہو چھلکاتی آنکھیں اٹھا کر بدر کو دیکھا ۔ آنسوؤں سے تر چہرہ بھیگی ہوئی سرخ مائل آنکھیں اور پھر اسکا حسیں چہرہ ۔ " جانم ۔ " بدر نے صرف اسکے ہاتھ پر ہی تو ہاتھ رکھا تھا مگر حرم نے بےدردی سے جھڑک دیا ۔ بالکل ویسے ہی جیسے نور نے حرم کا جھٹک دیا تھا ۔ " حرم اتنا اووَر ریئکٹ کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔ تم نے دیکھا نہیں نور کتنا ڈر گئی تھی ۔ کیسے مجھے کہہ رہی تھی کہ مما رو رہی ہیں ۔ " اسکے آنسوؤں کو صاف کرتا وہ دھیمے لہجے میں بول رہا تھا ۔ حرم اب بھی اسے اُس ہی طرح غصّہ لئے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی ۔ " پلیز چپ ہو جاؤ ۔ اور چل لو میرے ساتھ اتنا تڑپانا اچھی بات تو نہیں ہوتی نہ ! " اسکا چہرہ مضبوط ہاتھوں کے پیالوں میں تھا ۔ جبکہ بدر کے ہاتھ بخوبی محسوس کر سکتے تھے کہ اُسکے آنسو کس قدر بہہ رہے ہیں ۔ " تڑپانے کی بات کرتے ہو جاتے ہوئے یاد نہیں آیا تھا " اور یہاں سے حرم نے طنزیہ باتیں نکالنی شروع کردیں ۔ وہ بیڈ سے اتر کر نیچے کھڑی ہوگئی ۔ بدر کے ہاتھ ویسے ہی ہوا میں رہ گئے ۔ جیسے حرم کا رہ گیا تھا نور کے جھٹکنے پر ۔ " دور رہنا مجھ سے ۔" بدر بھی اٹھ کے اس کے پاس آیا تو حرم نے انگلی اٹھا کر وارن کیا ۔ " اتنا کچھ سہنے کے بعد بھی تمہاری اولاد سے تمہیں کبھی دور نہیں کیا نا میں نے تو مجھ سے بھی میری نور کو دور لے جانے کے سامان پیدا مت کرو ۔ " وہ اب دوبارہ سے بھیگے لہجے میں بول رہی تھی ۔ اور یہاں بدر اسکی یہ حالت دیکھ دل مٹھی میں پکڑے بیٹھا تھا ۔ " کوئی نور کو دور نہیں کرے گا تم سے ۔ میں ہوں نہ " اسکے ہاتھوں کو تھامے وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کہنے لگا ۔ " تم ! تم ہو ؟ جس کا کچھ پتا نہیں ۔ کب پہلے کی طرح چھوڑ کر چلے جاؤ .. " وہ طنزیہ مسکراہٹ لئے کہہ رہی تھی جب بدر کی گرفت اسکے ہاتھوں پر سے ڈھیلی پڑی ۔ " سہی کہہ رہی ہوں نہ میں ۔ اور پھر مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم ہوگا کہ تم چھوڑ کر گئے کہاں ہو ۔ کیونکہ یہ بات تو واپس آکر بھی نہیں بتاؤ گے جیسے اب تک نہیں بتایا ۔ " وہی سوال جس کے جواب بدر کے پاس موجود ہی نہ تھے نہ ہی وہ بتانے کی کوشش کر سکتا تھا ۔ " حرم پرانی باتوں کو مت نکالو ۔ مت سوچو نہ وہ سب جو بیت گیا ۔ " اور پھر یکدم ڈھیلی پڑتی گرفت پہلے سے زیادہ سختی پکڑ گئی ۔ دیوار کے ساتھ لگی حرم نے بھیگی پلکوں سے اسے دیکھا ۔ " اب صرف ہمارے بارے میں سوچو ، نور کے بارے میں سوچو " اسکی آواز اور بدر کی آنکھیں اسے اپنے نزدیک آتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں ۔ " آنے والے کل کے بارے میں سوچو " سسکتے وجود پر جلتی ہوئی سانسیں ۔ بس اب بہت ہوگئی وہ حد پار کر گیا تھا ۔ " دور رہو بدر ۔ مجھ سے دور رہو ۔ " اسے پیچھے دھکیلتے وہ گیلی آواز میں بھپری تھی ۔ کھوئے ہوئے وقت شروع بھی نہ ہوا تھا کہ بدر کی آنکھیں کھول دی گئیں ۔ " حرم میری بات ۔۔۔ " " کوئی بات نہیں سننّی مجھے ۔ " اب کی بار وہ چیخی تھی ۔ اور وہ بدر کے سامنے جا کھڑی ہوئی ۔ " مسٹر بدر آفندی ! " حرم کی شہادت کی انگلی اسکے دل مقام پر تھی ۔ " ہمارے بیچ نہ پہلے کچھ تھا ، نہ ہی اب کچھ ہے ، اور نہ ہی کبھی کچھ ہوگا ۔۔۔ " بدر کو یوں لگا جیسے حرم کی آواز اس سے دور جا رہی ہو ۔ دل تو دھڑکنا بھول گیا تھا ۔ " تم صرف میری بچی کے باپ ہو اور میں تمہاری بیٹی کی ماں ! اس سے زیادہ کوئی تعلق نہ ہوگا اور نہ ہی مجھے اب رکھنا ہے ۔ " کہتے ہی اس نے ایک لمبا سانس فضا میں خارج کیا تھا ۔ اور اپنی انگلی اسکے دل کے مقام سے جھٹکے سے ہٹا لی ۔ بدر اب بھی ویسے ہی کھڑا ہوا تھا جب اسے دروازہ کھلنے کی آواز آئی ۔ اور ہوش میں آتے اسے احساس ہوا حرم اسکے سامنے نہیں ہے بلکہ دروازے پر کھڑی ہے ۔ " مما ۔ دیڈو تے شاتھ جائیں دے نہ ہم ۔ نونو اول مما ۔" حرم کی قمیض کھینچتی وہ ابھی بھی ڈر کر کہہ رہی تھی کہ کہیں اسکی مما پھر سے نہ ڈانٹ دیں ۔ اسکی بات سن کر وہ نیچے جھکی اور نور کے ماتھے پر آہستگی سے بوسہ دیا ۔ " آئم سوری مما کی نونو ۔ اب مما کبھی نونو کو نہیں ڈانٹیں گی ۔ پرومِس " اسکو گلے لگاتے وہ نور کو پچھلی ڈانٹ بھلانے کے لئے کمپوز کر رہی تھی ۔ " دیڈو نئی ناں جائیں " اس سے علیحدہ ہوتی اس نے فوراً بدر کا ہاتھ پکڑا تھا جو وہاں سے جانے لگا تھا ۔ " ارے میں تو بتانا ہی بھول گئی ۔ " حرم کھڑی ہوئی اور بدر کا دوسرا ہاتھ کھینچا جس پر اس نے چونکتے ہوئے حرم کو دیکھا تھا ۔ " مما اور نونو ڈیڈی کے ساتھ جائیں گی سانیہ آنی کی شادی پر ۔ اور شادی تک وہیں رکیں گی ۔ " مسکراتے ہوئے بول کر نور کو خوش کر گئی تھی ۔ جبکہ نور اپنے ڈیڈی کے پیروں کو پکڑ کے ساتھ لگ گئی ۔ " میرا پیارا بچہ ۔ ڈیڈی کی ننھی سی جان ۔ " بدر نے جزبات سے لبریز ہو کر نور گود میں اٹھا کے خود میں بھینچ لیا ۔ جیسے اسے ڈر ہو کہ اسکی ننھی سی جان کو کوئی چھین کر لے جائے گا ۔ بدر نے نمی بھری آنکھوں سے اس ظالم کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔ بدر کا ہاتھ چھوڑتی وہ اسکے چہرے کے بے حد قریب گئی تھی ۔ پھر آنکھیں بند کر کے نور کا ماتھا چوم لیا جو اپنے باپ کے سینے سے لگی شاید گنودگی میں جا چکی تھی ۔ وہ کچھ اس طرح کھڑی تھی جیسے بدر کے گلے لگی ہوئی ہو ایک ہاتھ اس پر رکھے ۔ پھر اپنا سر بدر کے سینے پر اس طرح ٹکایا کے نور کا چہرہ اسکی آنکھوں کے سامنے ہوگیا ۔ " نور ۔ اب تو مما سے ناراض نہیں ہو نہ ؟ " اس نے آہستگی اپنا ہاتھ نور کے سر رکھتے ہوئے پوچھا تو اس نے ہولے سے آنکھیں کھول سر نفی میں ہلا دیا اور ماں کی طرح ہی مسکرا دی ۔ بدر بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکا آخر کو کھڑوس بیوی آج خود اسکے قریب آئی تھی ۔ کچھ دیر پہلے جو ہاتھ حرم نے پکڑا تھا اس ہی ہاتھ سے اب بدر نے ان دونوں کے گرد حصار باندھ لیا تھا ۔ " مما کی جان خوش ہے نہ اب ۔ " اسکے بالوں کو چہرے سے ہٹاتے ہوئے وہ پیار سے دھیمے لہجے میں پوچھ رہی تھی جبکہ ایک ہاتھ سے اس نے بدر کا ہاتھ اپنے پیچھے سے ہٹا دیا تھا ۔ بدر نے نگاہیں نیچے کئے اسے دیکھا جسکے صرف بال ہی نظر آرہے تھے ۔ ' تو ظالم نے یہ صرف نور کے لئے کیا تھا ۔ ' " یش مما ۔ نونو از ویری ویری ویری ہیپی مما " نور نے بھی اپنی مما کے گال کو پیار سے چھوا ۔ " چلو دادی جان کو سی آف کر آؤ ڈیڈی کے ساتھ جا کر پھر چلتے ہیں ۔ " اس سے الگ ہوتی ہوئی وہ کمرے میں چلی گئی ۔ جبکہ بدر نور کو لے کر دادی جان کے پاس چلا گیا ۔ اسکے لئے تو یہ بہت زیادہ تھا کہ وہ رازی ہوگئی ہے ۔ _________________________________ جاری ہے
❤️ 👍 😂 😢 🙏 😮 234

Comments